Khalid ibn al Wadeed RadiAllaho Anho Part 2

Khalid ibn al Wadeed RadiAllaho Anho Part 2

-Advertisement-

Khalid ibn al Wadeed RadiAllaho Anho Part 2

ایرانیوں کی عظیم سلطنت ساسانی ایمپائر کی طرف عرب لشکر چلا آ رہا تھا۔ یہ ایرانیوں کی زندگی اور موت کی لڑائی تھی۔ خالد بن ولید کی کمان میں آنے والے اس مسلم لشکر کو روکنے کے لیے ایرانی جنرل ہرمز اپنے طاقتور کمانڈرز، گھڑسوار دستوں اور پیدل فوج کے ساتھ کاظمہ کے مقام پر صف باندھے کھڑا تھا۔ اسے عرب لشکر کا انتظار تھا لیکن صحرائی لشکر تو کہیں بھی نہیں تھا۔ گھنٹوں انتظار کے باوجود ایرانیوں کو دور دور تک عربوں کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ پرشین ایمپائر کی طرف آنے والا خالد بن ولید کا لشکر کہاں رہ گیا تھا؟ مسلم سالار نے کیسے ایک کے بعد ایک ایرانی لشکر کو شکست دی؟ ان کی وہ جنگی حکمت عملی کیا تھی جس نے انھیں تاریخ کے عظیم جنرلز کی فہرست میں لا کھڑا کیا؟

“جنرلز اینڈ بیٹلز آف ہسٹری” کے دوسرے حصے میں ہم آپ کو یہی سب دکھائیں گے مارچ چھے سو تینتیس، سکس تھرٹی تھری میں اڑتالیس برس کے خالد بن ولید نے اٹھارہ ہزار جوانوں کے ساتھ ایران کے خلاف فوجی مہم کا آغاز کیا۔ انھوں نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ایک، ایک دن کے فرق سے روانہ کیا اور خود آخری حصے کے ساتھ گئے یہ انتظام اس لئے تھا تا کہ چھوٹے حصوں میں فوج کی رفتار تیز رکھی جا سکے۔ مسلم لشکر کا پہلا ٹارگٹ ابلہ یا جس کا عربی تلفظ الاُبلّہ ہے، وہ شہر تھا۔ اس شہر سے کچھ فاصلے پر کاظمہ وہ مقام تھا جہاں ایرانی جنرل ہرمز اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ خالد بن ولید کی فوج کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ جگہ آج کے کویت سٹی سے خلیج فارس جاتے ہوئے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

-Advertisement-

یہاں جنرل ہرمز کو انتظار کرتے ہوئے گھنٹوں گزر گئے لیکن مسلم لشکر قریب ہی ہونے کے باوجود یہاں نہیں پہنچ سکا۔ ہرمز نے ادھر ادھر جاسوس دوڑائے کہ پتا تو چلے مسلم لشکر کہاں رہ گیا ہے؟ جب ہرکارے واپس آئے تو ہرمز پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ خالد بن ولید کا لشکر ایک ایسے راستے سے آ رہا تھا جو تھا تو بہت طویل لیکن ایسا راستہ تھا جہاں سے ان کے آنے کی امید ایرانی جنرل کو ہرگز نہیں تھی۔ وہ کاظمہ کے بجائے اس کے متوازی ایک اور راستے الحفیر سے آ رہے تھے۔ آپ نقشے میں دیکھیں تو صاف سمجھ سکتے ہیں کہ عرب لشکر اور الاُبلّہ شہر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ ہرمز کا شہر مسلم لشکر کے سیدھے حملے کی زد میں تھا۔ ہرمز نے جلد بازی میں اپنی فوج کو الحفیر پہنچنے کا حکم دیا تا کہ الاُبلّہ کو بچایا جا سکے۔

-Advertisement-

ایرانی فوج نے افراتفری میں اپنا سامان باندھا اور الحفیر کی جانب مارچ شروع کر دیا۔ لیکن یہ ایرانی فوج کی ایک اور بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ وہ اس لیے کہ خالد بن ولید کی حکمت عملی ہی یہ تھی کہ وہ ایرانی لشکر کو لڑائی سے پہلے اچھی طرح تھکا لیں۔ اس کی بھی دوستو ایک خاص وجہ تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایرانی فوج ہرمز کا لشکر ایک شہری فوج تھی۔ دو دریاؤں کی زرخیز دھرتی کے پالے یہ سپاہی عربوں کی نسبت کافی آسان زندگی کے عادی تھے۔ پھر ایرانی فوج کے گھڑ سوار دستوں کے علاوہ باقی فوج پیدل تھی۔ ہر سپاہی کے پاس اتنا سامان تھا کہ اسے اٹھا کر گرم موسم میں لمبا سفر کرنا ان کے لیے خاصا مشکل کام تھا۔

-Advertisement-

خالد بن ولید پر معرکتہ الآرا کتاب لکھنے والے آغا ابراہیم لکھتے ہیں کہ ہر ایرانی فوجی کے پاس ایک زرہ بکتر، فولادی ہیلمٹ، ایک نیزہ، تلوار، کلہاڑی، دو کمانیں اور کچھ تیر ہوتے تھے اس کے علاوہ کھانے پینے کا سامان، ٹینٹ اور اوزار وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔ اس سارے سامان کے ساتھ لشکر کا ایک جگہ سے دوسری جگہ کوچ کرنا ایک تھکا دینے والی ایکسرسائیز تھی۔ اب اس کے مقابلے میں دیکھیں کہ عرب لشکر کے پاس کیا تھا؟ مسلم فوج کے پاس آہنی زربکتر، فولادی ہیلمٹ، بھاری ہتھیار یا کھانے پینے کا ڈھیر سارا سامان تھا ہی نہیں۔ ہر سپاہی کے پاس ایک تلوار تھی یا ایک نیزہ۔ پھر وہ صحراؤں کے پالے جنگجو تھے جو بہت کم خوراک کے کے ساتھ اونٹوں کی پیٹھ پر کئی کئی دن سفر کرنے کے عادی تھے۔

بھوک پیاس برداشت کرنا ان کے لیے ایرانیوں کی نسبت بہت آسان تھا۔ ان کے پیدل لڑنے والے بھی اونٹوں پر سفر کرتے تھے جس سے انھیں تھکان بھی کم ہوتی تھی۔ اسی سب کی وجہ سے وہ ایرانی لشکر کی نسبت بہت تیزی سے جگہیں بدل سکتے تھے۔ اب یہی وہ ٹریپ تھا جس میں مسلم سپہ سالار ایرانیوں کو گھیر لائے تھے۔ یہ رفتار کا ٹریپ تھا۔ وہ یوں کہ جیسے ہی بھاری بھرکم ایرانی فوج دو دن میں تقریباً اسی کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کر کے الحفیر پہنچی تو خالد بن ولید وہاں بھی نہیں تھے۔ وہ اب اپنی ہلکی اور تیزرفتار فورس کے ساتھ اس جگہ پہنچ چکے تھے جہاں ایرانی جنرل ہرمز پہلے موجود تھا، یعنی کاظمہ میں ہرمز کو جیسے ہی اس سرپرائز کا علم ہوا اس نے تھکی ہوئی فوج کو ایک بار پھر کاظمہ کی طرف لوٹنے کا حکم جاری کیا۔

ایرانی فوجی ایک بار پھر کندھوں پر بھاری سامان اٹھائے کاظمہ کی طرف چل پڑے۔ یہاں اب خالد بن ولید ان کے پہنچنے سے پہلے ہی موجود تھے۔ لیکن اب تک ایرانی سپاہیوں کی انرجی اور مورال ڈاؤن ہو چکا تھا۔ خالد بن ولید کی اسٹریٹجی کامیاب ر ہی تھی۔ اب میدان جنگ ان کی شرائط کے مطابق تیار تھا۔ کھلا صحرا ان کے پیچھے تھا اور سامنے کاظمہ شہر۔ انھوں نے اپنی صفوں کو اس طرح ترتیب دیا تھا کہ اگر کسی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑے تو وہ اپنے اونٹوں کے ساتھ آسانی سے صحرا میں پسپا ہو سکیں۔ پھر ان کے لشکر میں ترتیب کچھ یوں تھی کہ مرکز میں خالد بن ولید خود تھے۔ جبکہ دائیں اور بائیں بازو کی کمان عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کر رہے تھے۔ عربوں کے مقابلے میں ایرانی فوج کے مرکز میں بھی ان کا کمانڈر جنرل ہرمز ہی تھا۔

جبکہ اس کے دائیں اور بائیں، لیفٹ اور رائٹ ونگز کی کمان دو سینئر کمانڈرز قوباذ اور انوش جان کر رہے تھے۔ ایرانی فوج کے پیچھے کاظمہ شہر تھا اور سامنے عرب لشکر کی طرف لق و دق صحرا۔ مسلم ہسٹورئینز کے مطابق اٹھارہ ہزار عرب لشکر کے مقابلے میں ایرانی فوج کی تعداد تقریباً چالیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ایرانی فوج کو ایک ایڈوانٹیج یہ تھا کہ اس نے کاظمہ کے قریب پانی کے ذخیروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے عرب لشکر کیلئے بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ پیاسے سپاہیوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنا بہت مشکل کام تھا۔ لیکن اس دوران قدرت نے عربوں کی مدد کی۔

اچانک گھٹا چھا گئی اور موسلا دھار بارش ہوئی۔ اس سے مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے پانی کے تالاب بھر گئے۔ سو ان کی پیاس بجھی اور اب وہ لڑنے کیلئے تیار تھے۔ لیکن یہاں ایرانیوں نے ایک حیرت انگیز ترکیب لڑائی۔ ایک ایسی ترکیب جس نے اس جنگ کو ایک خاص نام دیا۔ وہ نام کیا تھا؟ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایرانیوں نے ایک حیرت انگیز کام یہ کیا کہ انہوں نے اپنی فوج کی اگلی صفوں کو زنجیروں سے باندھ لیا۔ ہسٹورین آغا ابراہیم اکرم کے مطابق ایرانی فوج میں اپنے سپاہیوں کو زنجیروں سے باندھنے کا عام رواج تھا۔ تین سے لے کر دس تک آدمیوں کو ایک زنجیر سے باندھا جا سکتا تھا۔ ایسا دشمن پر یہ ثابت کرنے کیلئے کیا جاتا تھا کہ ہم بھاگنے والے نہیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک لڑنے کے لیے آئے ہیں۔

اسی لیے اس جنگ کو ذات السلاسل یعنی زنجیروں والی جنگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے عرب اتحادیوں یعنی اللخمیون کو یہ جنگی طریقہ کار پسند نہیں تھا۔ ان عربوں نے زنجیروں والی بات پر اعترض کیا اور کہا کہ تم لوگ دشمن کیلئے خود ہی اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ رہے ہو؟ یہ خطرناک کام ہے۔ ایرانیوں کو عربوں کا یہ اعتراض ناگوار گزرا۔ انہوں نے جوابی طعنہ دیا ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم اس لئے زنجیروں میں نہیں بندھنا چاہتے تا کہ میدانِ جنگ سے بھاگ سکو۔ بہرحال اس بحث کے باوجود ایرانیوں نے زنجیروں کو استعمال کیا۔ اسی دوران ایرانی جنرل ہرمز نے ایک اور خطرناک پلان بنا لیا تھا۔

یہ پلین تھا کہ صرف ایک شخص کو جان سے مار کر جنگ جیتنے کا۔ اور یہ ایک شخص جس کی جان ایرانی جنرل لینا چاہتا تھا، وہ تھا مسلم سپہ سالار خالد بن ولید۔ ہرمز کا پلان بہت سادہ تھا۔ اور وہ یہ کہ خالد بن ولید کو ون آن ون مقابلے کے لیے للکارا جائے گا اور جیسے ہی وہ تنہا آگے آئیں گے انھیں ایرانی لشکر سے قاتلوں کا ایک گروہ اچانک حملہ کر کے قتل کر دے گا۔ سو جنگ کے آغاز میں جب دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں تو منصوبے کے مطابق ایرانی سپاہیوں کے ایک خاص گروہ نے خالد بن ولید کو للکارنا شروع کر دیا۔ کہاں ہے عرب سالار؟ سامنے آؤ سامنے آؤ۔ ان آوازوں کی گونج میں ایرانی جنرل ہرمز خود آگے بڑھا اور اس نے عرب سپہ سالار کو ون آن ون مبازرت کا مقابلے کا چیلنج دیا۔

اس پر خالد بن ولید نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا اور ہرمز کے سامنے پہنچ گئے۔ ہرمز گھوڑے سے اترا تو خالد بن ولید بھی اتر پڑے۔ ہرمز نہیں چاہتا تھا کہ قاتلانہ حملے کے وقت عرب سالار کو گھوڑے پر فرار ہونے کا موقع مل جائے۔ وہ خالد کو ان کے گھوڑے سے دور لے آیا اور تلوار سے مقابلہ شروع کر دیا۔ دونوں کمانڈر کچھ دیر تک ایک دوسرے پر وار کرتے رہے، لیکن کوئی ایک بھی دوسرے کو زخم نہیں لگا سکا۔ چند لمحوں بعد ہرمز نے تلوار اور ڈھال پھینک دی۔ خالد بن ولید نے بھی ایسا ہی کیا اور دونوں کمانڈر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔ ایک موقعے پر جیسے ہی خالد ہرمز کے قریب پہنچے ہرمز نے انہیں بازوؤں میں جکڑ لیا اور اپنے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔

اگلی صف میں کھڑے سپاہی اسی اشارے کے منتظر تھے وہ تلواریں نکال کر خالد بن ولید کی طرف بڑھے اور انہیں گھیرنے لگے۔ ایک لمحے کیلئے یوں لگا کہ ہرمز کا پلان کامیاب ہونے والا ہے اور وہ اب خالد بن ولید کو مسلم سپہ سالار کو قتل کر دیں گے۔ لیکن اس لمحے تک خالد بن ولید بھی ہرمز کا پلان سمجھ گئے تھے۔ سو وہ بھی غیر روایتی طریقے سے لڑنے لگے۔ وہ مشکلوں میں زندگی گزارنے والے عرب تھے اور جسمانی طور پر بھی شہری جنرل ہرمز سے مضبوط تھے۔ انھوں نے اسی حالت میں کہ ہرمز نے انھیں پیچھے سے بازؤں میں جکڑا تھا سیدھے ہو کر تیز تیز گھومنا شروع کر دیا۔

ان کے گول گول گھومنے سے ایرانیوں کے لیے پریکٹیکلی ناممکن ہو گیا کہ وہ خالد بن ولید پر سیدھا وار کر سکیں، کیونکہ اس کوشش میں نیزہ یا تیر جنرل ہرمز کو بھی لگ سکتا تھا۔ ابھی وہ اسی تاک میں تھے کہ کیسے خالد بن ولید کو نشانہ بنائیں کہ عرب لشکر کی طرف سے دھول اڑتی نظر آئی۔ یہ دھول صرف ایک گھڑ سوار اڑاتا ہوا آیا اور ایرانی جتھے پر ٹوٹ پڑا۔ ایک کے بعد ایک ایرانی سپاہی ڈھیر ہوتا چلا گیا۔ قاتلوں کا گروہ اس جنگجو کی طرف متوجہ تھا، ہرمز کی توجہ بھی ایک لمحے کے لیے بٹی تو اسی دوران خالد بن ولید نے بھی ہرمز سے خود کو آزاد کرواتے ہوئے اسے زمین پر پٹخ دیا۔

پھر قریب پڑے ایک خنجر سے انھوں نے ہرمز کے سینے پر چڑھ کر اس کا کام تمام کر دیا۔ انھوں نے عرب لشکر سے آنے والے تنہا سپاہی کے ساتھ مل کر لڑنے والے باقی ایرانیوں کو بھی مار دیا اور اپنے لشکر کی طرف واپسی کی راہ لی۔ دوستو تاریخ طَبری کے مطابق خالد بن ولید کی جان بچانے والا جنگجو وہی ون مین آرمی تھا جسے خلیفہ اول نے ایک خط کے جواب میں بھیجا تھا۔ یعنی قعقاع بن عمرو۔ تو مائی کیورئیس فیلوز جنرل ہرمز کی موت کے بعد ایرانی فوج بہت گرے ہوئے مورال اور تھکن کے ساتھ زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکی۔ عرب گھڑسوار دستوں نے ایرانیوں کی صفوں پر تابڑ توڑ حملےکیے۔

ان حملوں سے ایرانیوں کی صفیں اکھڑ چکی تھیں۔ اس پر دونوں سینئر ایرانی کمانڈرز قوباذ اور انوش جان نے اپنے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹا لیا۔ انہیں پیچھے ہٹتا دیکھ کر باقی ایرانی فوج بھی بھاگ کھڑی ہوئی۔ عربوں نے بہت دیر تک ایرانی لشکر کا تعاقب کیا اور بہت سے ایرانیوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ اس لڑائی میں بعض مسلم روایات کے مطابق آدھی سے زیادہ ایرانی فوج ماری گئی جبکہ عرب لشکر کا نقصان چند سو جنگجوؤں سے زیادہ نہیں تھا عراق کی سرزمین پر ایرانیوں سے پہلی بڑی جنگ خالد بن ولید اور عرب لشکر نے جیت لی تھی۔ یہ ایک تاریخی فتح تھی جس نے عربوں کے ہاتھوں ایرانی ایمپائر کی فتح کا دروازہ کھول دیا تھا۔

اس جیت کے بعد بہت سا مال و دولت بھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ ہرمز کی زرہ بکتر اور ہتھیار عرب سالار خالد بن ولید نے اپنے پاس رکھ لئے۔ دیگر مال اسباب میں وہ زنجیریں بھی شامل تھیں جس سے ایرانیوں نے خود کو باندھ رکھا تھا۔ یہ زنجیریں اتنی زیادہ تھیں کہ ان کا وزن ایک ہزار رطل یا کچھ اندازوں کے مطابق چار سو کلوگرام تھا۔ اس کے علاوہ ہرمز کی دستار جس میں ہیرے جواہرات جڑے تھے اور جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی وہ بھی خالد بن ولید ہی کے حصے میں آئی۔ جسے انھوں نے بعد میں بیچ دیا تھا۔

اسی طرح باقی فوج میں سے ہر گھڑ سوار کو ایک ہزار درہم، جبکہ ہر پیدل سپاہی کو اس کا تیسرا حصہ مال غنیمت ملا۔ مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ مدینہ روانہ کر دیا گیا۔ اس دولت میں ایک ہاتھی بھی شامل تھا۔ اس ہاتھی کو مدینہ شہر کے گلی کوچوں میں پھرایا گیا۔ عربوں میں گنے چنے لوگ ہی تھے جنہوں نے کبھی ہاتھی دیکھا تھا۔ چنانچہ اس اکلوتے ہاتھی کو دیکھنے کیلئے پورا شہر امڈ پڑا۔ کہتے ہیں مدینہ میں بڑی بوڑھی عورتیں اسے حیرت سے دیکھتیں اور پوچھتیں کہ کیا واقعی یہ کوئی خدا کی مخلوق ہے۔ اس ہاتھی کو بعد میں خالد بن ولید کے پاس میدان جنگ ہی میں واپس بھیج دیا گیا تھا۔

بیٹل آف چینز، ذات السلاسل کا میدان جیتنے کے بعد خالد بن ولید نے آسانی سے کاظمہ اور الحفیر کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس سے پہلے انہوں نے جان بوجھ کر ان شہروں کو فتح نہیں کیا تھا۔ اگر وہ کسی شہر کو فتح کر لیتے تو اس کی حفاظت کیلئے انہیں اپنی فوج کے ساتھ وہاں موجود رہنا پڑتا اور اس طرح وہ دشمن کے گھیرے میں بھی آ سکتے تھے تاہم ہرمز کو شکست دینے کے بعد انہوں نے ان دونوں شہروں پر بلکہ ان کے درمیان بھی ہر آبادی پر قبضہ کر لیا یہ ان کی سوچی سمجھی جنگی حکمت عملی ہوتی تھی کہ دشمن فوج کے خاتمے سے پہلے ان کے شہر پر قبضہ نہ کرو بھلے شہر ان کے سامنے بغیر ڈیفنس کے ہی موجود کیوں نہ ہو۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب تک دشمن فوج سلامت ہے تب تک سکون نہیں لیا جا سکتا۔

لیکن دشمن فوج پر فتح پانے کے بعد وہ شہر پر قبضہ کرتے اور یہاں ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ دشمن کی فوجی مدد کرنے والوں کو خاندان سمیت گرفتار کر لیتے تھے۔ لیکن مقامی آبادی اور خاص طور پر کسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ خلیفہ اول کی طرف سے بھی انہیں ایسا ہی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان لوگوں سے جزیہ لے کر انہیں ذِمی بنا لیا جاتا تھا یعنی عرب سلطنت کی رعایا میں شامل کر لیا جاتا تھا۔ اسی طرح کسانوں کو یہ اجازت بھی دی گئی تھی کہ وہ اپنی زمینیں اپنے پاس رکھیں اور لگان دیتے رہیں۔ تاہم یہ بندوبست عارضی تھا اور ان زمینوں کی ملکیت اور تقسیم کا فیصلہ فتوحات مکمل ہونے کے بعد ہونا تھا۔

ان سب کاموں سے فارغ ہو کر خالد بن ولید نے اپنے اصل ٹارگٹ یعنی الاُبلّہ شہر کی طرف پیش قدمی کی۔ انہوں نے مثنیٰ بن حارثہ کو ان کے دو ہزار گھڑسواروں کے ساتھ ہراول دستے کے طور پر آگے بھیج دیا۔ مثنیٰ نے اُبلہ سے پہلے ایک چھوٹے سے دریا کے کنارے ایک قلعے کا محاصرہ کیا اور اپنے بھائی معنیٰ کو کچھ سپاہیوں کے ساتھ قلعے کے باہر چھوڑ کر خود آگے بڑھ گئے۔ اس قلعے کو حسن المعرات کہا جاتا تھا جس کا مطلب تھا خاتون کا قلعہ یافورٹ آف دی لیڈی۔ اس نام کی وجہ یہ تھی کہ اس قلعے کی حکمران ایک خاتون تھی۔ مثنیٰ نے قلعے کے باہر اس خاتون کے شوہر اور اس کے فوجیوں کو جو کہ کسی اور مقام پر موجود تھے انہیں گھیر لیا۔ تاریخِ طَبری کے مطابق مثنیٰ نے ان لوگوں سے ہتھیار لئے اور ان کو قتل کر کے ان کے مال پر قبضہ کر لیا۔

جب اس خاتون کو اپنے شوہر کے قتل کی اطلاع ملی تو اس نے قلعے کو عربوں کے حوالے کر دیا اور اسلام قبول کر کے مثنیٰ کے بھائی معنیٰ سے شادی بھی کر لی۔ ادھر مثنیٰ بن حارثہ الاُبلّہ کی جانب بڑھ رہے تھے تو ان کے پیچھے خالد بن ولید بھی اپنے باقی لشکر کے ساتھ پیش قدمی کر رہے تھے۔ عراق میں خالد بن ولید کو مقامی عربوں سے بھی مدد ملنے لگی تھی۔ کئی عرب ان کے گائیڈ اور جاسوس بن گئے تھے۔ بلکہ کچھ جگہوں پر تو خالد بن ولید نے خود بھی مقامی لوگوں سے ایسے معاہدے کئے کہ وہ جزیہ دینے کے علاوہ ایرانیوں کی جاسوسی بھی کریں گے۔

اس طرح عرب سالار نے ایسا انتظام کر لیا تھا کہ دشمن کی نقل و حرکت کی پل پل کی خبریں ان کے پاس پہنچ رہی تھیں۔ ادھر مثنی بن حارثہ جو اپنے گھڑسوار دستوں کے ساتھ لشکر کے آگے آگے تھے وہ بھی انہیں دشمن کی پیش قدمی سے آگاہ رکھے ہوئے تھے۔ اس انٹیلیجنس معلومات کی روشنی میں خالد بن ولید کو اپنے جنگی منصوبے بنانے میں بہت مدد مل رہی تھی۔ اس عرصے کے دوران جو سب سے بڑی اور اہم خبر خالد بن ولید کو ملی وہ تھی ایک نئی ایرانی فوج کی آمد۔ یہ نئی فوج ایک اور جہاندیدہ اور تجربہ کار ایرانی کمانڈر کی کمان میں آ رہی تھی۔ اس نئی آنے والی فوج کی کمان ایرانی کمانڈر قارِن کے ہاتھ میں تھی۔ الاُبلّہ کے گورنر ہرمز کی طرح یہ شخص بھی ایرانیوں میں شہنشاہ کے بعد اعلیٰ ترین رتبے والا سمجھا جاتا تھا۔

یہ بھی ایک لاکھ درہم والی دستار رکھتا تھا۔ قارن ایرانی کو بنیادی طور پر ہرمز کی مدد کیلئے بھیجا گیا تھا لیکن ظاہر ہے اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہرمز مارا جا چکا تھا۔ قارن نے اپنی فوج کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے کنارے سفر شروع کیا اور الاُبلّہ کے اوپر یہ جگہ جو مذار کہلاتی تھی یہاں دریا عبور کر کے مغربی طرف آ گیا۔ اسی مقام پر بیٹل آف چینز کی ہاری ہوئی فوج اور اس کے دونوں کمانڈرز قوباذ اور انوش جان بھی اس فوج سے آن ملے۔ انہی لوگوں کی زبانی قارن کو ہرمز کی شکست کا حال بھی معلوم ہو گیا۔ قوباذ اور انوش جان بدلہ لینے کیلئے بے چین تھے۔ تاہم قارن ایک محتاط کمانڈر تھا۔ اس نے کسی جلد بازی کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی مرضی کے میدانِ جنگ میں پہنچ کر عرب لشکر کا انتظار کرے گا۔

چنانچہ وہ اپنی فوج لے کر مذار سے آگے بڑھا اور ایک دریا کے کنارے پوزیشن لے لی۔ اس نے اپنی فوج کو اس طرح پھیلا دیا کہ دریا اس کے بالکل پیچھے تھا۔ یعنی عرب لشکر جنگ کے دوران ایرانیوں کو پیچھے سے گھیر نہیں سکتا تھا۔ قارن کو یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کہ عرب لشکر کے پاس کشتیاں موجود نہیں ہیں اس لئے وہ دریا کی طرف سے کسی اچانک حملے کے خطرے سے بھی بے فکر ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے دریا میں کشتیاں بھی تیار رکھی تھیں تاکہ شکست کی صورت میں اس کی فوج کشتیوں میں بیٹھ کر بحفاظت نکل جائے۔

جنرل قارِن کے لشکر کا سب سے پہلے جس عرب لشکر سے سامنا ہوا وہ مثنیٰ بن حارثہ کے گھڑسوار دستے تھے۔ خالد بن ولید نے ان دستوں کو دور سے دشمن کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی اس لئے اس دستے نے ایرانیوں پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ ادھر ایرانی بھی اپنے کیمپ سے باہر نہیں نکلے۔ شاید کمانڈر قارن ان گھڑسوار دستوں کے پیچھے اپنا وقت اور طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے وہ عربوں کے مرکزی لشکر کا انتظار کرتا رہا مثنیٰ بن حارثہ نے دشمن کی پوزیشن کا جائزہ لے کر پوری رپورٹ خالد بن ولید کو بھیج دی۔ وہ اس وقت اُبلہ کے قریب پہنچ چکے تھے۔

انہوں نے ایک فوجی دستے کو معقل بن مقرن کی کمان میں ابلہ فتح کرنے بھیج دیا اور خود ایرانی فوج کے مقابلے کیلئے بڑھے۔ معقل بن مقرن نے ابلہ کو فتح کر لیا۔ خالد بن ولید کی ہدایت کے مطابق جو لوگ ایرنی حکومت کے قریب تھے انہیں انھوں نے یرغمال بنا لیا اور عام لوگوں سے جزیہ لے کر اس علاقے کو خلافت میں شامل کر لیا۔ دوستو یہاں یاد رہے کہ اسلامی تاریخ میں اس فتح پر اختلاف ہے۔ کیونکہ تاریخِ طَبری ہی کی ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ ابلہ شہر کو خالد بن ولید نے نہیں بلکہ دوسرے خلیفہ راشد کے دور میں عتبہ بن عزوان نے فتح کیا تھا۔

بہرحال پہلی روایت کے مطابق خالد بن ولید قارن سے مقابلے کیلئے بڑھے اور دریا کے پاس ایرانی کیمپ کے سامنے پہنچ گئے۔ چونکہ یہ لڑائی دریا کے قریب لڑی جا رہی تھی اس لئے اسے دریا کی جنگ یا معرکتہ النہر کہا جاتا ہے۔ مائی کیوریس فیلوز یہ جنگ اپریل کے مہینے میں لڑی جا رہی تھی جو کہ اسلامی کیلنڈر کے مطابق صفر بارہ ہجری کا مہینہ تھا۔ اس جنگ کے بارے میں تاریخِ طَبری میں لکھا ہے کہ عرب کہتے تھے صفر کا مہینہ آ گیا ہے اس میں ہر ظالم سرکش قتل ہو گا۔ خالد بن ولید نے ایرانی کیمپ کے سامنے پہنچ کر خود دشمن کی پوزیشن کا جائزہ لیا۔ وہ فوراً ہی سمجھ گئے کہ دشمن نے میدانِ جنگ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔

یہاں اسے کسی طرف سے گھیرا نہیں جا سکتا تھا۔ چنانچہ خالد بن ولید نے دشمن سے آمنے سامنے کی لڑائی کا فیصلہ کیا۔ دونوں فوجوں نے صف بندی کی۔ عربوں کی صف بندی وہی پہلے والی تھی۔ مرکز میں خالد بن ولید اور رائٹ لیفٹ میں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم۔ ان کے سامنے ایرانی فوج نے صف بندی کی۔ بیٹل آف چینز کے کمانڈرز قوباذ اور انوش جان کو رائیٹ اور لیفٹ کا کمانڈر بنایا گیا۔ ایرانیوں کی صف بندی مضبوط نظر آ رہی تھی۔ یہاں ایک بار پھر ایرانی جنرل قارن نے اپنی روایات کے مطابق میدان جنگ میں آ کر خالد بن ولید کو للکار دیا۔ ون آن ون مقابلے کا چیلنج کر دیا۔ خالد بن ولید کو چیلنج کر کے وہ عربوں سے انتقام لینا چاہتا تھا لیکن جو ہوا وہ اس کی توقع کے برعکس تھا۔

اس للکار کے جواب میں خالد بن ولید نے قارن سے مقابلے کیلئے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا۔ لیکن ابھی وہ زیادہ دور نہیں گئے تھے کہ ایک اور عرب جنگجو معقل بن العشی نے بھی اپنا گھوڑا بڑھا دیا۔ وہ گھوڑا دوڑاتے ہوئے خالد بن ولید سے پہلے ہی قارن تک پہنچ گئے۔ قارن سے ان کا مقابلہ ہوا اور معقل نے قارن کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اپنے کمانڈر کی موت نے دوسرے ایرانی جرنیلوں قوباذ اور انوشجان کو بھی تاؤ دلا دیا۔ وہ غصے میں کھولتے ہوئے آگے بڑھے اور عربوں کو للکارنے لگے۔ ادھر سے عرب کمانڈر عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم نکلے۔ عاصم نے انوش جان اور عدی بن حاتم نے قوباذ کو قتل کر دیا۔ یعنی باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ایرانی فوج کے تینوں بڑے کمانڈرز مارے جا چکے تھے اور اب ایرانی لشکر کی کمان کرنے والا کوئی بڑا نام نہیں بچا تھا۔

یہ دشمن کو گرانے کا بہترین موقع تھا۔ سو جیسے ہی تیسرا ایرانی کمانڈر زخم کھا کر گرا خالد بن ولید نے پوری فوج کو حملے کا حکم دے دیا۔ عرب لشکر آگے بڑھا اور پوری طاقت سے دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ ایرانی کچھ دیر تک تو ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ تاہم اپنے مرکزی کمانڈرز کے بغیر وہ بھلا کب تک مقابلہ کرتے۔ جلد ہی عربوں نے ان کی صفیں الٹ دیں اور ان کی فوج کو دریا کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ مسلم مورخین کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں کم از کم تیس ہزار، تھرٹی تھاؤزنڈ ایرانی مارے گئے۔ ان کے علاوہ بہت سے سپاہی جلد بازی میں دریا پار کرتے ہوئے ڈوب گئے۔

تاہم فوج کا ایک بڑا حصہ انھی کشتیوں میں فرار ہو گیا جنہیں قارِن نے اسی مقصد کیلئے باندھ رکھا تھا۔ عربوں کا نقصان ایک بار پھر مسلم ہسٹورینز کے مطابق چند سو سے زیادہ نہیں تھا۔ اس جنگ میں بیٹل آف چینز سے بھی کہیں زیادہ مالِ غنیمت عربوں کے ہاتھ لگا۔ اس کا بھی پانچواں حصہ خلافت اسلامیہ کو بھیج کر باقی چار حصے فوج میں تقسیم کر دئیے گئے۔ زیادہ مالِ غنیمت ہونے کی وجہ سے گھڑسواروں کا شیئر پہلے سے بھی بڑھ گیا تھا۔ خالد بن ولید نے ہر مارے گئے ایرانی سپاہی کا سامان اسے قتل کرنے والے عرب سپاہی کو دیا۔ اسی طرح جنگ میں بہادری دکھانے والوں کو بھی بڑے انعامات دیئے گئے۔

معرکہ النہر کی فتح کے بعد خالد بن ولید نے مذار کا علاقہ اور اردگرد کی کئی آبادیوں پر بھی خلافت کا جھنڈا لہرا دیا۔ اب کاظمہ سے لے کر مذار تک ایک بڑا علاقہ عربوں کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ خالد بن ولید ان علاقوں سے جزیہ اور ٹیکسز وغیرہ جمع کرنے اور دیگر انتظامی معاملات میں مصروف ہو گئے۔ یوں کچھ دنوں کیلئے فتوحات کا سلسلہ رک گیا۔ خالد بن ولید کا خیال تھا کہ معرکہ النہر میں شکست کی خبر المدائن پہنچنے اور ایرانی فوج کو دوبارہ منظم ہونے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس شکست کی خبر اسی روز ایرانی دارالحکومت مدائن پہنچ چکی تھی اور نیا لشکر تیار بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔

لیکن دوستو یہ جنگ تو المدائن سے تین سو میل، تقریباً چار سو بیاسی کلومیٹر دور لڑی گئی تھی۔ اس زمانے میں محض ایک روز میں یہ اطلاع وہاں کیسے پہنچی۔ اس کی وجہ تھی ایرانیوں کا ایک بہت ہی جینئس طریقہ کار ایرانیوں نے یہ کیا تھا کہ میدانِ جنگ کے پیچھے جو دریا تھا اس کے پار سے لے کر المدائن شہر تک سینکڑوں آدمی ایک لائن میں تعینات کر دیے تھے۔ ہر آدمی کو اتنے فاصلے پر تعینات کیا گیا تھا کہ ایک کی آواز دوسرے تک پہنچ سکے۔ تو سب سے آگے جو آدمی کھڑا تھا وہ دریا کے پار ہونے والی جنگ دیکھ رہا تھا۔ وہ ہر صورتحال کی اطلاع بلند آواز سے اپنے پیچھے والے آدمی کو دیتا تھا پھر وہ آدمی اپنے سے پیچھے کھڑے ہوئے آدمی کو یوں یہ پیغام آدمیوں کی اس لائن سے گزرتا ہوا چند ہی گھنٹوں میں دارالحکومت تک پہنچ جاتا تھا۔

اس بندوبست کے نتیجے میں دریا والی جنگ کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ چند گھنٹوں کے وقفے سے المدائن پہنچتی رہی۔ جیسے ہی شکست کی خبر پہنچی تو المدائن سے چاروں طرف قاصد دوڑا دیئے گئے اور دو نئی فوجوں کو جمع ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس نئے حکم کا مطلب یہ تھا کہ ایرانی ایمپائر جو کہ عرب لشکر کے خطرے کو پہلے ایزی لے رہی تھی اب وہ پوری طاقت سے مقابلے پر آنے کو تیار تھی۔ اس نئے ایرانی لشکر نے عرب جنگجوؤں کا مقابلہ کیسے کیا؟ تاریخ کی عظیم ایرانی ساسانی سلطنت کیسے ملیا میٹ ہوئی؟ الحیرۃ کی فتح کے انتہائی دلچسپ واقعات اور شام کے سفر کی حیرت انگیز داستان بھی آپ کو دکھائیں گے لیکن اس سیریز کے اگلے حصے میں۔

دوستو اس سیریز کو پسند کرنے پر آپ کا شکریہ لیکن یہاں ایک بات ہمیں بطور تاریخ کے طالب علم ذہن میں رکھنی چاہیے۔ وہ یہ کہ اسلامی جنگوں کی جتنی بھی تاریخ ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں وہ مسلم ہسٹورئینز ہی کی پرائمری سورسز سے لی گئی ہیں۔ کیونکہ مسلم مورخین کے علاوہ ان کا ریکارڈ اور کسی تاریخ میں موجود ہی نہیں ہے۔ ایرانیوں اور رومیوں سمیت کسی نے بھی ان جنگوں کا کوئی ریکارڈ کوئی ایک کتاب تک ان جنگنوں کے قریب قریب نہیں لکھی۔ جو بھی لکھا وہ مسلم مورخین نے لکھا، مگر وہ بھی صدیوں بعد، جنگوں کے فوراً نہیں۔ مثلا عرب مسلمانوں کی فتوحات کی سب سے پہلی اور تفصیلی کتاب فتوح البلدان ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے یہ کتاب بھی ان جنگوں سے تقریباً اڑھائی سو سال بعد لکھی گئی تھی۔

لیکن اس میں بھی عراق کی فتوحات لکھتے ہوئے مصنف البلارزری نے عرب اور ایرانی لشکروں کی تعداد کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد مسلم فتوحات کا ذکر دوسری سب سے قدیم کتاب تاریخ طبری میں ہے۔ یہ کتاب بھی ان جنگوں کے تقریباً پونے تین سو سال بعد لکھی گئی تھی۔ اس میں ایرانیوں سے جنگوں اور عراق میں مسلم فتوحات کا تفصیل سے ذکر تو ہے لیکن مسلم فوج اور مدمقابل ایرانی فوج کی تعداد کا ذکر نہیں ملتا۔ سو ہمارے پاس آج خلافت اسلامیہ کی ابتدائی فتوحات کا جو بھی ذکر ہے وہ ان دو کتابوں فتوح البلدان اور تارخ طبری ہی کے ریفرنس سے آتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماڈرن ہیسٹورینز ان جنگوں کی باریک تفصیلات کو ایک سائیڈ کا ورژن ہی مانتے ہیں۔ ہم بھی اس سیریز میںں مسلم ہسٹورینز کی ہی معلومات پر بھروسہ کریں گے کیونکہ اُس دور کے قریب ترین وہی تاریخ لکھی گئی تھی مائی کیورئیس فیلوز جنرلز اینڈ بیٹلز کا یہ دوسرا حصہ آپ نے دیکھا اس کا پہلا حصہ مس نہ کیجئے گا یہ میدان جنگ سمجھنے کے لیے بہت اہم    تھا، یہ حصہ یہاں دیکھئے۔۔۔۔

پہلا حصہ

-Advertisement-